21 جون 2016 - 15:24
پاکستان نے افغان پناہ گزیں کیمپوں کو دہشتگردوں کا محفوظ ٹھکانہ قرار دے دیا

پاکستان نے دعوی کیا ہے اس کے ہاں موجود افغان پناہ گزینوں کے کیمپ، دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے بن گئے ہیں۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے وزیراعظم کے مشیر برائے امورِ خارجہ سرتاج عزیز نے اپنے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا ہے کہ افغان پناہ گزیں پاکستان کے لیے سیکورٹی کا مسئلہ ہیں اور ان کی بے ضابطہ نقل وحرکت کی بناء پر افغان پناہ گزینوں کے کیمپ دہشت گردوں کے لیے محفوظ ٹھکانوں میں تبدیل ہوگئے ہیں۔ سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ملک کے قبائلی علاقوں میں اپنی رِٹ دوبارہ قائم کرلی ہے لیکن افغان بارڈر کھلا ہونے کی وجہ سے ہمارے قبائلی علاقے محفوظ نہیں رہ سکتے۔ انہوں نے افغان مہاجرین کی واپسی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ عمل بتدریج مکمل ہوگا اورپاکستان کو اس کے لیے مناسب منصوبہ بندی کی ضرورت ہوگی۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ کشیدگی کے حوالے سے سرتاج عزیز نے دعوی کیا کہ پاکستان اب تک اُن پالیسیوں کا خمیازہ بھگت رہا ہے، جو افغانستان میں روس کے حملے کے وقت اپنائی گئی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اُس وقت پانچ ملین افراد افغانستان سے منشیات اور اسلحہ لے کر پاکستان آئے، جس سے پاکستان میں عدم استحکام پیدا ہوا۔ انہوں نے کہاکہ اب بھی تین ملین افغان پناہ گزین پاکستان میں مقیم ہیں جن میں سےآدھی سے زیادہ تعداد کے پاس پاکستان میں اقامت کے لیے کوئی قانونی دستاویز ہے اور نہ ہی انہوں نے خود کو بطور افغان مہاجر رجسٹرڈ کرایا ہے۔ سرتاج عزیز نے کہا کہ جب موجودہ حکومت اقتدار میں آئی تو ماضی کے تجربات کی روشنی میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ پاکستان کسی اور کی جنگ میں حصہ نہیں لے گا۔

پاکستان کے مشیر خارجہ نے اپنے اس انٹرویو میں اسلام آباد اور نئی دہلی کے تعلقات کے بارے میں کہا کہ ہندوستان شروع ہی سے جنوبی ایشیا میں اپنی بالادستی کے قیام کی کوشش کرتا چلا آیا ہے لیکن پاکستان نے اسے کبھی قبول نہیں کیا ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مسئلہ کشمیر کے بارے میں اپنے موقف اور کم سے کم دفاعی صلاحیتوں کو محفوظ رکھنے کے معاملے پر ڈٹا ہوا ہے۔

.......

/169